(۳۱۳۲۰) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبِی : أَنَّ الْحَجَّاجَ حِینَ قَتَلَ ابْنَ الزُّبَیْرِ جَائَ بِہِ إلَی مِنًی فَصَلَبَہُ عِنْدَ الثَّنِیَّۃِ فِی بَطْنِ الْوَادِی ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : انْظُرُوا إلَی ہَذَا ! ہَذَا شَرِّ الأُمَّۃِ ، فَقَالَ : إنِّی رَأَیْت ابْنَ عُمَرَ جَائَ عَلَی بَغْلَۃٍ لَہُ فَذَہَبَ لِیُدْنِیَہَا مِنَ الْجِذْعِ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ ، فَقَالَ لِمَوْلاَہُ : وَیْحَک خُذْ بِلِجَامِہَا فَأَدْنِہَا ، قَالَ : فَرَأَیْتہ أَدْنَاہَا فَوَقَفَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ وَہُوَ یَقُولُ : رَحِمَک اللَّہُ ، إنْ کُنْت لَصَوَّامًا قَوَّامًا ، وَلَقَدْ أَفْلَحَتْ أُمَّۃٌ أَنْتَ شَرُّہَا۔
(٣١٣٢٠) خلیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر (رض) کو قتل کر ڈالا تو ان کو منیٰ لے گیا اور ان کو وادی کے درمیان ایک ٹیلہ کے قریب سولی دے دی، پھر لوگوں سے کہا کہ اس آدمی کو دیکھو یہ امت کا بد ترین آدمی ہے، راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو ایک خچر پر آتے ہوئے دیکھا ، وہ اپنے خچّر کو شہتیر سے قریب کرنے لگے اور خچر بدکنے لگا، حضرت نے اپنے غلام سے فرمایا اس کی لگام پکڑ کر شہتیر کے قریب کرو، کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ انھوں نے خچر کو شہتیر کے قریب کردیا، حضرت ابن عمر (رض) وہاں رکے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے ، بیشک تو بہت روزے رکھنے والا اور بہت نماز کے لیے قیام کرنے والا تھا، اور یقیناً وہ امت فلاح پا گئی جس کا بدترین آدمی تجھ جیسا ہو۔