(۳۱۳۲۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی ، عَنْ أَبِیہِ یَعْلَی بْنِ حَرْمَلَۃَ ، قَالَ : تَکَلَّمَ الْحَجَّاجُ یَوْمَ عَرَفَۃَ بِعَرَفَاتٍ فَأَطَالَ الْکَلاَمُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ : أَلاَ إِنَّ الْیَوْمَ یَوْمُ ذِکْرٍ ، قَالَ : فَمَضَی الْحَجَّاجُ فِی خُطْبَتِہِ ، قَالَ : فَأَعَادَہَا عَبْدُ اللہِ مَرَّتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، ثُمَّ قَالَ : یَا نَافِعُ نَادِ بِالصَّلاَۃِ ، فَنَزَلَ الْحَجَّاجُ۔
(٣١٣٢٢) یعلی بن حرملہ فرماتے ہیں کہ حجاج نے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن گفتگو کی اور بہت لمبی گفتگو کی، حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اس سے فرمایا آج کا دن ذکر کا دن ہے، کہتے ہیں کہ حجاج نے اپنا خطبہ جاری رکھا، حضرت عبداللہ نے دو یا تین مرتبہ یہ بات دہرائی ، پھر فرمایا اے نافع ! نماز کے لیے اذان کہو، یہ سن کر حجاج منبر سے اتر گیا۔