(۳۱۳۲۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کُنَاسَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَتَی مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ وَہُوَ یَطُوفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : ابْنُ أَخِیک مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَیْرِ ، قَالَ: صَاحِبُ الْعِرَاقِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، جِئْتُک لأَسْأَلَک عَنْ قَوْمٍ خَلَعُوا الطَّاعَۃَ ، وَسَفَکُوا الدِّمَائَ ، وَجَبَوا الأَمْوَالَ ، فَقُوتِلُوا فَغُلِبُوا فَدَخَلُوا قَصْرًا فَتَحَصَّنُوا فِیہِ ، ثُمَّ سَأَلُوا الأَمَانَ فَأُعْطُوہُ ، ثُمَّ قُتِلُوا ؟ قَالَ : وَکَمَ الْعِدَّۃُ ؟ قَالَ : خَمْسَۃُ آلاَفٍ ، قَالَ : فَسَبَّحَ ابْنُ عُمَرَ عِنْدَ ذَلِکَ ، وَقَالَ : عَمْرَکَ اللہِ یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ ! لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَتَی مَاشِیَۃً لِلزُّبَیْرِ فَذَبَحَ مِنْہَا فِی غَدَاۃٍ خَمْسَۃَ آلاَفٍ أَکُنْتَ تَرَاہُ مُسْرِفًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَتَرَاہُ إسْرَافًا فِی بَہَائِمَ لاَ تَدْرِی مَا اللَّہُ ، وَتَسْتَحِلُّہُ مِمَّنْ ہَلَّلَ اللَّہَ یَوْمًا وَاحِدًا ؟۔
(٣١٣٢٩) حضرت سعید سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر (رض) ، عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ صفا مروہ کے درمیان طواف کر رہے تھے، انھوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ جواب دیا کہ آپ کا بھتیجا مصعب بن زبیر، پوچھا کہ عراق کا حاکم ؟ جواب دیا جی ہاں ! میں آپ سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جو اطاعت چھوڑ دیں اور خون بہائیں اور مال چھین لیں، ان سے قتال کیا جائے اور اس میں وہ مغلوب ہوجائیں پھر وہ قلعہ بند ہو کر امان طلب کریں ان کو امان دے دی جائے یا پھر ان کو قتل کردیا جائے ؟ آپ نے پوچھا وہ کتنے ہیں ؟ عرض کیا پانچ ہزار ۔ کہتے ہیں کہ اس بات کو سن کر عبداللہ بن عمر (رض) نے سبحان اللہ کہا، اور فرمایا اے ابن زبیر ! اللہ تمہاری عمر دراز کرے، اگر کوئی آدمی زبیر (رض) کی بکریوں کے پاس آئے اور ایک ہی وقت میں ان میں سے پانچ ہزار بکریاں ذبح کر ڈالے تو کیا تم اس آدمی کو حدّ سے تجاوز کرنے والا سمجھو گے ؟ انھوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرمایا کہ تم اس بات کو ان جانوروں کے حق میں اسراف سمجھتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو نہیں جانتے، تو کلمہ پڑھنے والے اتنے لوگوں کو ایک ہی دن میں قتل کرنے کو کیسے حلال سمجھ بیٹھے ہو ؟ !