(۳۱۳۳) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّہِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ : کُنْتُ أُصَلِّی ، وَابْنُ عُمَرَ مُُسْنِدٌ ظَہْرَہُ إلَی جِدَارِ الْقِبْلَۃِ ، فَانْصَرَفْت عَنْ یَسَارِی ، فَقَالَ : مَا یَمْنَعُک أَنْ تَنْصَرِفَ عَنْ یَمِینِکَ ؟ قُلْتُ : لاَ ، إِلاَّ أَنِّی رَأَیْتُکَ فَانْصَرَفْت إلَیْک ، فَقَالَ : أَصَبْتَ ، إنَّ نَاسًا یَقُولُونَ : تَنْصَرِفُ عَنْ یَمِینِکَ ، فَإِذَا کُنْت تُصَلِّی فَانْصَرِفْ إِنْ أَحْبَبْت عَنْ یَمِینِکَ ، أَوْ عَنْ یَسَارِک۔
(٣١٣٣) حضرت واسع بن حبان فرماتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور حضرت عبداللہ بن عمر قبلہ کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ میں نے نماز پڑھنے کے بعد بائیں جانب کو رخ کیا تو انھوں نے فرمایا کہ تم نے دائیں جانب کو رخ کیوں نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں میں نے آپ کو دیکھا تو آپ ہی کی طرف اٹھ کر چلا آیا۔ انھوں نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تم دائیں جانب کو اٹھتے ہو (ضروری سمجھتے ہو) جب تم نماز پڑھ لو تو چاہو تو دائیں طرف اور چاہو تو بائیں طرف رخ کرلو۔