(۳۱۳۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنِ الْمُثَنَّی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، قَالَ : خَطَبَنَا ابْنُ الزُّبَیْرِ فَقَالَ : إنَّا قَدِ اُبْتُلِینَا بِمَا قَدْ تَرَوْنَ ، فَمَا أَمَرْنَاکُمْ بِأَمْرٍ لِلَّہِ فِیہِ طَاعَۃٌ فَلَنَا عَلَیْکُمْ فِیہِ السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ ، وَمَا أَمَرْنَاکُمْ بِأَمْرٍ لَیْسَ لِلَّہِ فِیہِ طَاعَۃٌ فَلَیْسَ لَنَا عَلَیْکُمْ فِیہِ طَاعَۃٌ ، وَلاَ نِعْمَۃُ عَیْنٍ۔
(٣١٣٣١) ابو سفیان سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر (رض) نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ ہم کس مصیبت میں گرفتار ہوگئے ہیں، اس لیے میں اگر تمہیں ایسے کام کا حکم کروں جس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہو تو تم پر ہمارے لیے اس کا سننا اور بجا لانا لازم ہے، اور جس کام میں اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری نہ ہوتی ہو اس کی اطاعت بھی ضروری نہیں اور ہمیں کوئی خوشی بھی نہ ہوگی۔