(۳۱۳۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِی خَالِدٍ ، قَالَ : وَفَدْت إلَی عُمَرَ فَفَضَّلَ أَہْلَ الشَّامِ عَلَیْنَا فِی الْجَائِزَۃِ ، فَقُلْنَا لَہُ ، فَقَالَ : یَا أَہْلَ الْکُوفَۃِ ، أَجَزِعْتُمْ أَنِّی فَضَّلْت عَلَیْکُمْ أَہْلَ الشَّامِ فِی الْجَائِزَۃِ ، لِبُعْدِ شُقَّتکُمْ ، فَقَدْ آثَرْتُکُمْ بِابْنِ أُمِّ عَبْدِ۔
(٣١٣٣٥) ابو خالد فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس ایک وفد کے ساتھ گیا، انھوں نے اہل شام کو ہم پر انعام اور عطیہ میں فوقیت دی، ہم نے ان سے یہ بات عرض کی، تو آپ نے فرمایا اے کوفہ والو ! تم دور ہونے کی وجہ سے اس بات پر پریشان ہو رہے ہو کہ میں نے شام والوں کو تم پر فوقیت دی ہے، لیکن میں نے تمہیں عبداللہ بن مسعود (رض) کی صورت میں فوقیت اور ترجیح بھی تو دی ہے۔