(۳۱۳۴۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ الصُّلْحُ بَیْنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَبَیْنَ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ أَرَادَ الْحَسَنُ الْخُرُوجَ - یَعْنِی : إلَی الْمَدِینَۃِ - فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ : مَا أَنْتَ بِالَّذِی تَذْہَبُ حَتَّی تَخْطُبَ النَّاسَ ، قَالَ الشَّعْبِیُّ : فَسَمِعْتہ عَلَی الْمِنْبَرِ حَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ أَکَیْسَ الْکَیْسِ التُّقَی ، وَإِنَّ أَعْجَزَ الْعَجْزِ الْفُجُورُ ، وَإِنَّ ہَذَا الأَمْرَ الَّذِی اخْتَلَفْت فِیہِ أَنَا وَمُعَاوِیَۃُ حَقٌّ کَانَ لِی فَتَرَکْتہ لِمُعَاوِیَۃَ ، أَوْ حَقٌّ کَانَ لاِمْرِئٍ أَحَقَّ بِہِ مِنِّی ، وَإِنَّمَا فَعَلْت ہَذَا لِحَقْنِ دِمَائِکُمْ {وَإِنْ أَدْرِی لَعَلَّہُ فِتْنَۃٌ لَکُمْ وَمَتَاعٌ إلَی حِینٍ}۔
(٣١٣٤١) شعبی کہتے ہیں کہ جب حضرت حسن بن علی اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان صلح ہوگئی تو حضرت حسن نے مدینہ کی طرف واپسی کا ارادہ کیا ، حضرت معاویہ نے ان سے فرمایا کہ آپ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک لوگوں کو خطبہ نہ دے دیں ، شعبی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے حضرت حسن کو منبر پر سنا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر فرمایا : اما بعد ! سب سے بڑی عقل مندی تقویٰ اختیار کرنا ہے اور سب سے بڑی عاجزی گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے، اور بیشک یہ امارت جس میں میرا اور حضرت معاویہ (رض) کا اختلاف ہوا تھا میرا حق تھا جس کو میں نے حضرت معاویہ کے لیے چھوڑ دیا یا پھر یہ کسی ایسے آدمی کا حق تھا جو مجھ سے زیادہ اس کا حق دار ہو، اور میں نے یہ کام تمہاری جانوں کے تحفظ کے لیے کیا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ ممکن ہے یہ کام تمہارے لیے آزمائش ہو اور ایک وقت تک فائدہ اٹھانے کا سامان ہو۔