(۳۱۳۶۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا أَوْصَی الرَّجُلُ بِوَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ ، فَأَجَازَ الْوَرَثَۃُ قَبْلَ أَنْ یَمُوتَ ، ثُمَّ رَجِعَ الْوَرَثَۃُ بَعْدَ مَوْتِہِ ، فَہُمْ عَلَی رَأْسِ أَمْرِہِمْ ، وَإِذَا کَانَ لِغَیْرِ وَارِثٍ زِیَادَۃ عَلَی الثُّلُثِ فَمِثْلُ ذَلِکَ ، وَإِذَا کَانَتْ لِغَیْرِ وَارِثٍ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الثُّلُثِ فَإِنَّہَا جَائِزَۃٌ۔
(٣١٣٦٥) ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کسی وارث کے لیے وصیت کرے اور اس کے مرنے سے پہلے اس کے ورثاء اس کی اجازرت دے دیں پھر اس کے مرنے کے بعد اپنے فیصلے سے رجوع کرلیں تو ان کو اس کا اختیار ہے، اور اگر کسی غیر وارث شخص کے لیے ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت کی گئی ہو تب بھی ایسا ہی ہے، اور اگر کسی نے غیر وارث کے لیے ایک تہائی سے کم کی وصیت کی ہو تو وہ نافذ ہوجاتی ہے۔