(۳۱۳۷۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ رَجُلاً أَوْصَی فَدَعَا نَاسًا ، فَقَالَ : أُشْہِدُکُمْ أَنَّ غُلاَمِی فُلاَنًا إنْ حَدَثَ بِی حَدَثٌ فَہُوَ حُرٌّ ، فَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِہِ فَقِیلَ لَہُ : أَعْتَقْت فُلاَنًا وَتَرَکْت فُلاَنًا وَکَانَ أَحْسَنَ بَلاَئً ، فَقَالَ : رُدُّوا عَلَیَّ الْبَیِّنَۃَ ، أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ رَجَعْت فِی عِتْقِ فُلاَنٍ ، وَأَنَّ فُلاَنًا لِعَبْدِہِ الآخَرِ إنْ حَدَثَ بِی حَدَثٌ فَہُوَ حُرٌّ ، فَمَاتَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ الأَوَّلُ : أَنَا حُرٌّ ، وَقَالَ الآخَرُ : أَنَا حُرٌّ ، فَاخْتَصَمَا إلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ ، فَرَدَّ عِتْقَ الأَوَّلِ وَأَجَازَ عِتْقَ الآخَرِ۔
(٣١٣٧٨) ہشام حضرت حسن سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے وصیت کی ، اور لوگوں کو بلا کر کہا : اگر مجھے موت آگئی تو میں آپ لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرا فلاں غلام آزاد ہے، اس سے کہا گیا کہ تم نے فلاں غلام کو تو آزاد کردیا لیکن دوسرا فلاں غلام جو اس سے زیادہ خدمت کرنے والا تھا اس کو تم نے چھوڑ دیا، اس پر اس نے کہا لوگوں کو دوبارہ بلاؤ ! اور ان سے کہا میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اس غلام کی آزادی سے رجوع کرلیا اور دوسرا فلاں غلام آزاد ہے اگر میں مر جاؤں، چنانچہ وہ آدمی مرگیا تو پہلے غلام نے دعویٰ کیا کہ میں آزاد ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں آزاد ہوں، چنانچہ وہ عبد الملک بن مروان کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے گئے تو انھوں نے پہلے غلام کی آزادی کو ردّ کر کے دوسرے غلام کی آزادی کا اعلان فرما دیا۔