(۳۱۴۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، وَخَالِدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : أُسْبَقُ بِبَعْضِ الصَّلاَۃِ فَیُسَلِّمُ الإِمَامُ ، فَأَقُومُ فَأَقْضِی مَا سُبِقْتُ بِہِ ، أَوْ أَنْتَظِرُ أَنْ یَنْحَرِفَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : کَانَ الإِمَامُ إذَا سَلَّمَ قَامَ ، وَقَالَ خَالِدٌ : کَانَ الإِمَامُ إذَا سَلَّمَ انْکَفَأَ ، کَانَ الانکِفَائُ مَعَ التَّسْلِیمِ۔
(٣١٤٠) حضرت انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے عرض کیا کہ بعض اوقات جماعت سے میری کچھ نماز رہ جاتی ہے، اس صورت میں جب امام سلام پھیر دے تو کیا میں کھڑے ہو کر چھوٹ جانے والی نماز پوری کرلوں یا امام کے رخ بدلنے کا انتظار کروں ؟ حضرت ابن عمرنے فرمایا کہ جب امام سلام پھیر دے تو کھڑے ہو کر نماز پوری کرلو۔ حضرت خالد فرماتے ہیں کہ امام جونہی سلام پھیرتا فوراً رخ بھی بدل لیتا تھا۔ گویا سلام پھیرنا اور رخ بدلنا متصل ہوا کرتے تھے۔