(۳۱۴۲۸) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ لاَ یَرَی الْوَصِیَّۃَ إلاَّ لِذَوِی الأَرْحَامِ أَہْلِ الْفَقْرِ ، فَإِنْ أَوْصَی بِہَا لِغَیْرِہِمْ إنْتُزِعَتْ مِنْہُمْ فَرُدَّتْ إلَیْہِمْ ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیہِمْ فُقَرَائُ فَلأَہْلِ الْفَقْرِ مَا کَانُوا ، وَإِنْ سَمَّی أَہْلُہَا الَّذِینَ أُوصِی لَہُمْ۔
(٣١٤٢٨) ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ طاؤس حاجت مندوں ذوی الأرحام رشتہ داروں کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کرنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اور یہ رائے رکھتے تھے کہ اگر کوئی ان کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کرے تو ان سے مال لے کر ذوی الأرحام رشتہ داروں کو دلایا جائے گا، اور اگر ذوی الأرحام رشتہ داروں میں حاجت مند نہ ہوں تو وصیت کا مال فقراء میں تقسیم کیا جائے گا چاہے وہ کوئی بھی ہوں، اگرچہ وصیت کرنے والے نے ان لوگوں کا نام بھی لیا ہو جن کے لیے وصیت ہے۔