(۳۱۴۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاویَۃ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الثَّقَفِیُّ ، قَالَ : لَقِیَنِی إبْرَاہِیمُ فَقَالَ : مَا تَقُولُ فِی رَجُلٍ أَوْصَی بِنِصْفِہِ وَثُلُثِہِ وَرُبْعِہِ ، قَالَ : فَلَمْ یَکُنْ عِنْدِی فِیہَا شَیْئٌ ، فَقَالَ : إبْرَاہِیمُ ، خُذْ مَالاً لَہُ نِصْفٌ وَثُلُثٌ وَرُبْعٌ : اثْنَا عَشَرَ فَخُذْ نِصْفَہَا سِتَّۃً وَثُلُثَہَا أَرْبَعَۃً وَرُبْعَہَا ثَلاَثَۃً ، فَاقْسِمَ الْمَالَ عَلَی ثَلاَثَۃَ عَشَرَ ، فَمَا أَصَابَ سِتَّۃً کَانَ لِصَاحِبِ النِّصْفِ ، وَمَا أَصَابَ أَرْبَعَۃً کَانَ لِصَاحِبِ الثُّلُثِ ، وَمَا أَصَابَ ثَلاَثَۃً کَانَ لِصَاحِبِ الرُّبْعِ۔
(٣١٤٣٩) ابو عاصم ثقفی فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم مجھ سے ملے اور پوچھا تم کیا کہتے ہو اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنے آدھے، اور ایک تہائی اور ایک چوتھائی مال کی وصیت کردی، مجھے اس کے جواب کا کوئی علم نہیں تھا، خود ہی انھوں نے فرمایا : اس کے مال کے اتنے حصّے کرو جس سے آدھا، ایک تہائی اور ایک چوتھائی نکل آئیں، یعنی بارہ حصّے کرلو، اس کا آدھا چھ ہے اور اس کا ایک تہائی چار ہے، اور اس کا ایک چوتھائی تین ہے، اب مال کے تیرہ حصّے کرو، چھ کے مقابلے میں جتنا مال آئے آدھے حصّے والے کو دے دو ، اور چار کے مقابلے میں جتنا مال آئے ایک تہائی حصّے والے کو دے دو ، اور تین کے مقابلے میں جتنا مال آئے ایک چوتھائی حصّے والے شخص کو دے دو ۔