(۳۱۴۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو ہَارُونَ ، قَالَ : صَلَّیْت بِالْمَدِینَۃِ فَسُبِقْتُ بِبَعْضِ الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ الإِمَامُ قُمْتُ لأَقْضِیَ مَا سُبِقْتُ بِہ ، فَجَبَذَنِی رَجُلٌ کَانَ إلَی جَنْبِی ، ثُمَّ قَالَ : کَانَ یَنْبَغِی لَکَ أَنْ لاَ تَقُومَ حَتَّی یَنْحَرِف ، قَالَ : فَلَقِیتُ أَبَا سَعِیدٍ فَذَکَرْت لَہ ذَلِکَ ، فَکَأَنَّہُ لَمْ یَکْرَہْ مَا صَنَعْتُ ، أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا۔
(٣١٤٥) حضرت ابو ہارون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مدینہ منورہ میں نماز پڑھی تو میری کچھ نماز جماعت سے رہ گئی۔ جب امام نے سلام پھیرلیا تو میں باقی ماندہ نماز کو ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوگیا۔ اتنے میں میرے ساتھ کھڑے ایک آدمی نے مجھے زور سے کھینچا اور کہا کہ جب تک امام رخ نہ پھیرلے تمہیں کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابو سعید سے کیا تو انھوں نے میرے عمل کو بالکل مکروہ خیال نہ فرمایا۔