(۳۱۴۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَانُوا یُوصُونَ ، فَیَکْتُبُ الرَّجُلُ فِی وَصِیَّتِہِ : إنْ حَدَثَ بِی حَدَثٌ قَبْلَ أَنْ أُغَیِّرَ وَصِیَّتِی ہَذِہِ فَإِنْ بَدَا لَہُ أَنْ یُغَیِّرَ غَیَّرَ إنْ شَائَ الْعَتَاقَۃَ وَغَیْرَہَا ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَثْنِ فِی وَصِیَّتِہِ غَیَّرَ مِنْہَا مَا شَائَ غَیْرَ الْعَتَاقَۃِ۔
(٣١٤٥٧) ہشام سے روایت ہے کہ محمد نے فرمایا لوگ اس طرح وصیت کیا کرتے تھے کہ آدمی اپنی وصیت میں لکھتا کہ ” اگر مجھے موت آگئی قبل ازیں کہ میں اپنی وصیت میں تبدیلی کروں “ اگر اس کو تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو تو تبدیلی کرسکتا ہے چاہے غلام کی آزادی کی وصیت ہو یا اور کوئی، اور اگر اس نے وصیت میں کوئی شرط نہیں لگائی تھی تب بھی وصیت میں تبدیلی کرسکتا ہے سوائے غلام کی آزادی کے۔