(۳۱۵۳۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی قَوْلِہِ : {وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُوا الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ} قَالَ : کَانَ إذَا قَسَمَ الْقَوْمُ الْمِیرَاثَ ، وَکَانَ ہَؤُلاَئِ شُہُودًا رُضِخَ لَہُمْ مِنَ الْمِیرَاثِ ، فَإِنْ کَانُوا غَیَبًا وَأَحَدٌ مِنْہُمْ شَاہِدٌ ، فَإِنْ شَائَ أَعْطَی مِنْ نَصِیبِہِ وَإِلاَّ قَالَ لَہُمْ قَوْلاً مَعْرُوفًا ، قَالَ : یَقُولُ : إنَّ لَکُمْ فِیہِ حَقًّا۔
(٣١٥٣٦) مغیرہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُوا الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ فَارْزُقُوہُم مِّنْہُ } کی تفسیر میں فرمایا کہ جب لوگ میراث تقسیم کرتے اور یہ لوگ وہاں موجود ہوتے تو ان کو میراث میں سے تھوڑا بہت دے دیا جاتا تھا، اور اگر ورثاء موجود نہ ہوتے اور اس وقت ان لوگوں میں سے کوئی وہاں موجود ہوتا تو اگر اپنے حصّے سے دینا چاہتا تو دے دیتا ورنہ ان سے مناسب بات کہہ دیتا، یعنی یوں کہتا؛ بلاشبہ تمہارا اس مال میں حق ہے۔