(۳۱۵۵۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ قَالَ : مَرِضَ مَرَضًا أَشْفَی مِنْہُ ، فَأَتَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعُودُہُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ لِی مَالاً کَثِیرًا وَلَیْسَ یَرِثُنِی إِلاَّ ابْنَۃٌ لِی ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِالثُّلُثَیْنِ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَالشَّطْرَ ؟ قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : فَالثُّلُثُ ؟ قَالَ : الثُّلُثُ کَثِیرٌ۔
(بخاری ۶۷۳۳۔ مسلم ۱۲۵۲)
(٣١٥٥٨) عامر بن سعد روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے فرمایا کہ میں ایک مرتبہ اتنا بیمار ہوا کہ قریب المرگ ہوگیا، میرے پاس عیادت کے لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ 5! میرے پاس بہت سا مال ہے اور میرا وارث میری ایک بیٹی کے علاوہ کوئی نہیں، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی حصّہ صدقہ کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! میں نے عرض کیا : تو کیا آدھا مال صدقہ کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! میں نے عرض کیا : اور ایک تہائی ؟ آپ نے فرمایا : ایک تہائی بہت ہے۔