(۳۱۵۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، قَالَ : ذَہَبْت أَنَا وَالْحُکْمُ إلَی سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ فَسَأَلْتُہُ عَنْ قولہ : {وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ} إلَی قَوْلہ {سَدِیدًا} قَالَ : ہُوَ الَّذِی یَحْضُرُہُ الْمَوْتُ فَیَقُولُ لَہُ مَنْ یَحْضُرُہُ : اتَّقِ اللَّہَ وَأَعْطِہِمْ صِلْہُمْ بَرَّہُمْ وَلَوْ کَانُوا ہُمَ الَّذِینَ یَأْمُرُونَہُ بِالْوَصِیَّۃِ لأَحَبُّوا أَنْ یُنْفِقُوا لأَوْلاَدِہِمْ۔
فَأَتَیْنَا مِقْسَمًا فَسَأَلَنَاہ ؟ فَقَالَ : مَا قَالَ سَعِیدٌ ؟ فَقُلْنَا : کَذَا وَکَذَا ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنَّہُ الرَّجُلُ یَحْضُرُہُ الْمَوْتُ فَیُقَالُ لَہُ : اتَّقِ اللَّہَ وَأَمْسِکْ عَلَیْک مَالِکَ فَإِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ أَحَقَّ بِمَالِکَ مِنْ وَلَدِکَ وَلَوْ کَانَ الَّذِی یُوصِی ذَا قَرَابَۃٍ لاَحَبُّوا أَنْ یُوصِیَ لَہُمْ۔
(٣١٥٧٩) سفیان سے روایت ہے کہ حضرت حبیب نے فرمایا کہ میں اور حکم حضرت سعید بن جبیر کے پاس گئے اور میں نے ان سے آیت { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ ۔۔۔ سَدِیدًا } کی تفسیر پوچھی، انھوں نے فرمایا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مرنے والے کے پاس اس کی موت کے وقت حاضر ہوں اور اس کو نصیحت کریں کہ اللہ سے ڈرو ! اور وہ ان حاضرین کو صلہ رحمی اور احسان کے طور پر کچھ دے ، حالانکہ اگر اس آدمی کی جگہ خود یہ لوگ ہوں تو وہ یہ چاہیں کہ اپنی اولاد کے لیے خرچ کریں۔
پھر ہم حضرت مِقسَم کے پاس آئے، اور ان سے بھی اسی آیت کے متعلق سوال کیا انھوں نے پوچھا کہ حضرت سعید نے کیا فرمایا ؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ یہ فرمایا ہے، فرمایا یہ درست نہیں، بلکہ یہ آیت اس آدمی کے متعلق ہے جس کو موت کے وقت کہا جا رہا ہو کہ اللہ سے ڈر اور اپنا مال اپنے پاس روک رکھ ! کہ تیرے مال کا تیری اولاد سے زیادہ حق دار کوئی نہیں ہے، اور اگر وصیت کرنے والا اس کا رشتہ دار ہو تو وہ یہ چاہیں کہ وہ ان کے لیے وصیت کرے۔