(۳۱۵۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِیکٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَ : قَالَ لَہَا رَجُلٌ : إنِّی أُرِیدُ أَنْ أُوصِیَ ، قَالَتْ : کَمْ مَالُک ؟ قَالَ : ثَلاَثَۃُ آلاَفٍ ، قَالَتْ : فَکَمْ عِیَالُک ؟ قَالَ : أَرْبَعَۃٌ ، قَالَتْ : فَإِنَّ اللَّہَ یَقُولُ : {إنْ تَرَکَ خَیْرًا} وَإِنَّہُ شَیْئٌ یَسِیرٌ ، فَدَعْہُ لِعِیَالِکَ فَإِنَّہُ أَفْضَلُ۔
(٣١٥٩١) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ (رض) سے عرض کیا کہ میں وصیت کرنا چاہتا ہوں ، انھوں نے پوچھا تیرے پاس کتنا مال ہے ؟ عرض کیا : تین ہزار، آپ نے پوچھا تیرے اہل و عیال کتنے افراد ہیں ؟ کہنے لگا ، چار، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے یہ شرط ذکر فرمائی ہے ” اگر مال چھوڑے “ اور تیرے پاس تو بہت معمولی سا مال ہے اس کو اپنے بچوں کے لیے چھوڑ دو ، یہی افضل ہے۔