(۳۱۶۴۵) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبِی ، قَالَ : حَضَرَ جَارٌ لِشُرَیْحٍ وَلَہُ بَنُونَ ، فَقَسَمَ مَالَہُ بَیْنَہُمْ لاَ یَأْلُو أَنْ یَعْدِلَ ، ثُمَّ دَعَا شُرَیْحًا فَجَائَ ، فَقَالَ : أَبَا أُمَیَّۃَ إنِّی قَسَمْت مَالِی بَیْنَ وَلَدِی وَلَمْ آلُ ، وَقَدْ أَشْہَدْتُک ، فَقَالَ شُرَیْحٌ : قِسْمَۃُ اللہِ أَعْدَلُ مِنْ قِسْمَتِکَ ، فَارْدُدْہُمْ إلَی سِہَامِ اللہِ وَفَرَائِضِہِ وَأَشْہِدْنِی وَإِلاَّ فَلاَ تُشْہِدْنِی ، فَإِنِّی لاَ أَشْہَدُ عَلَی جَوْرٍ۔
(٣١٦٤٥) ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت شریح کا ایک پڑوسی جس کے ایک سے زائد بچے تھے ان کے پاس آیا ، اور اپنا مال ان بچوں کے درمیان برابری کا لحاظ کیے بغیر تقسیم کردیا، پھر اس نے حضرت شریح کو بلایا، آپ گئے تو اس نے کہا اے ابو امیہ ! میں نے اپنا مال اپنے بچوں کے درمیان تقسیم کردیا ہے اور میں نے برابری کی رعایت نہیں کی، اور اب میں آپ کو گواہ بناتا ہوں، حضرت شریح نے فرمایا : ” اللہ کی تقسیم تیری تقسیم سے زیادہ انصاف والی ہے، اس تقسیم کو ختم کر کے اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حصّوں کے مطابق تقسیم کرو اور پھر مجھے گواہ بناؤ، ورنہ مجھے گواہ مت بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بننا چاہتا۔ “