(۳۱۶۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا وَضَّاحٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ : فِی رَجُلٍ تُوُفِّیَ وَتَرَکَ ثَلاَثَۃَ بَنِینَ ، وَقَالَ : ثُلُثُ مَالِی لأَصْغَرِ بَنِیَّ ، فَقَالَ : الأَکْبَرُ : أَنَا لاَ أُجِیزُ ، وَقَالَ الأَوْسَطُ : أَنَا أُجِیزُ ، فَقَالَ : اجْعَلْہَا عَلَی تِسْعَۃِ أَسْہُمٍ : یُرْفَعُ ثَلاَثَۃ ، فَلَہُ سَہْمُہُ وَسَہْمُ الَّذِی أَجَازَہُ۔
وَقَالَ حَمَّادٌ : یُرَدُّ عَلَیْہِمَ السَّہْمُ جَمِیعًا۔
وَقَالَ عَامِرٌ : الَّذِی رَدَّ إنَّمَا رَدَّ عَلَی نَفْسِہِ۔
(٣١٦٧٢) مغیرہ سے روایت ہے کہ حضرت حماد نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے مرتے ہوئے تین بیٹے چھوڑے اور کہا کہ میرا ایک تہائی مال میرے سب سے چھوٹے بیٹے کے لیے ہے، بعد میں بڑے بیٹے نے کہا میں ایسی وصیت نافذ نہیں کرتا اور درمیان والے بیٹے نے کہا کہ میں اسے نافذ کرتا ہوں، فرمایا کہ میری رائے میں اس مال کے نو حصّے کیے جائیں، تین حصّے بڑے بیٹے کو دیے جائیں گے، اور پھر چھوٹے بیٹے کو اس کا حصّہ اور وصیت کو نافذ کرنے والے کا حصّہ دے دیا جائے گا، حماد فرماتے ہیں کہ ان سب پر وہ حصّہ لوٹایا جائے گا اور عامر فرماتے ہیں کہ جس نے وصیت کو ردّ کیا اس نے فقط اپنے حصّے میں سے ہی ردّ کیا ہے۔