hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 31673

.

ابن أبي شيبة

31673
Ibn Abi Shaybah
(۳۱۶۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ دَاوُد بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، فَجَائَ رَجُلاَنِ أَوْ أَکْثَرُ مِنْ آلِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بَیْنَہُمْ عُبَیْدُ اللہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ ، وَجَاؤُوا مَعَہُمْ بِکِتَابٍ فِی صَحِیفَۃٍ ذَکَرُوا أَنَّہَا وَصِیَّۃُ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ، فَفُتِحْت صَدْرُہَا : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ہَذَا ذِکْرُ مَا کَتَبَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فِی ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ مِنْ أَمْرِ وَصِیَّتِہِ ، إنِّی أُوصِی مَنْ تَرَکْت مِنْ أَہْلِی کُلّہُم بِتَقْوَی اللہِ وَشُکْرِہِ وَاسْتِمْسَاکٍ بِحَبْلِہِ ، وَإِیمَانٍ بِوَعْدِہِ ، وَأُوصِیہِمْ بِصَلاَحِ ذَاتِ بَیْنِہِم وَالتَّرَاحُمِ وَالْبِرِّ وَالتَّقْوَی ، ثُمَّ أَوْصَی إنْ تُوُفِّیَ أَنَّ ثُلُثَ مَالِہِ صَدَقَۃٌ إلاَّ أَنْ یُغَیِّرَ وَصِیَّتَہُ قَبْلَ أَنْ یَلْحَقَ بِاللہِ ، أَلْف فِی سَبِیلِ اللہِ إنْ کَانَ أَمْرُ الأُمَّۃِ یَوْمئِذٍ جَمِیعًا ، وَفِی الرِّقَابِ وَالأَقْرَبِینَ ، وَمَنْ سَمَّیْت لَہُ الْعِتْقَ مِنْ رَقِیقِی یَوْمَ دُبُر مِنِّی فَأَدْرَکَہُ الْعِتْقُ فَإِنَّہُ یُقِیمُہُ وَلِیُّ وَصِیَّتِی فِی الثُّلُثِ غَیْرَ حَرِجٍ ، وَلاَ مُنَازِعٍ۔
(٣١٦٧٤) ابن عُلیّہ فرماتے ہیں کہ میں داؤد بن ابی ہند کے پاس تھا، کہ حضرت انس بن مالک (رض) کی آل کے دو یا دو سے زیادہ آدمی آئے جن میں حضرت عبید اللہ بن ابی بکر بھی شامل تھے، اور وہ اپنے ساتھ ایک دستاویز کے اندر ایک خط بھی لائے ، اور انھوں نے یہ بتایا کہ یہ حضرت انس بن مالک (رض) کی وصیت ہے، میں نے اسے کھولا تو اس میں درج تھا : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم : یہ ذکر ہے اس وصیت کا جو انس بن مالک نے اس دستاویز میں لکھی ہے، میں اپنے تمام گھر والوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ سے ڈرنے اور اس کا شکر ادا کرنے اور اس کی رسّی کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے اور اس کے وعدے پر ایمان لانے کی وصیت کرتا ہوں، اور ان کو میں آپس میں اچھے طریقے سے رہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ صلہ رحمی کرنے اور دوسروں ے ساتھ نیکی کرنے اور اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، پھر انھوں نے وصیت فرمائی کہ ان کے مال کا ایک تہائی حصّہ صدقہ ہے، ہاں مگر یہ کہ وہ موت سے پہلے اپنی وصیت کو تبدیل کردیں، جس میں سے ایک ہزار اللہ کے راستے کے مجاہدین کے لیے ہے اگر اس وقت امت کا شیرازہ منتشر نہ ہو، اور غلاموں کو آزاد کرنے اور رشتہ داروں میں تقسیم کرنے کے لیے ہے، اور میرے وہ غلام جن کو میں نے اپنے بعد آزاد کردیا ہے اور اس کی آزادی کا وقت آگیا تو میری وصیت کا ذمہ دار ایک تہائی اس کو شامل کرے، اس طرح کہ کوئی پریشانی اور جھگڑا پیدا نہ کرے۔