(۳۱۶۷۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ ، قَالَ : کَانَ أَوَّلُ وَصِیَّۃِ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : ہَذَا مَا أَوْصَی بِہِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَمْرَۃَ ، أَنَّہُ یَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إلاَّ اللَّہُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، وَأَوْصَی بَنِیہِ وَأَہْلِہِ أَنِ {اتَّقُوا اللَّہَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ وَأَطِیعُوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ إنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ} ، وَأُوصِیہِمْ بِمَا أَوْصَی بِہِ إبْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوبُ : {یَا بَنِیَّ إنَّ اللَّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّینَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} وَزَعَمَ أَنَّہَا کَانَتْ أَوَّلَ وَصِیَّۃِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔
(٣١٦٧٨) ہشام بن حسان فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین (رض) کی پہلی وصیت یہ تھی : یہ وہ وصیت ہے جو محمد بن ابی عمرہ نے کی، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میں اپنے بیٹوں اور اپنے گھر والوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور اس بات کی کہ آپس میں اچھے طریقے سے رہیں، اور اگر ایمان والے ہیں تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، اور میں ان کو اس بات کی وصیت کرتا ہوں جس کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو وصیت کی تھی کہ ” اے میرے بیٹو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین کو پسند کیا ہے، سو تمہیں موت اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو “ اور وہ فرماتے ہیں کہ یہی حضرت انس بن مالک (رض) کی بھی پہلی وصیت تھی۔
تم کتاب الوصایا بحمد اللہ وعونہ
(بحمد اللہ کتاب الوصایا اختتام کو پہنچی)