(۳۱۷۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَہَانِیِّ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : بَعَثَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ إلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَسْأَلُہُ عَنْ زَوْجٍ وَأَبَوَیْنِ ، فَقَالَ زَیْدٌ : لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ، وَلِلأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِیَ وَہُوَ السُّدُسُ ، فَأَرْسَلِ إلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَفِی کِتَابِ اللہِ تَجِدُ ہَذَا ؟ قَالَ : أَکْرَہُ أَنْ أُفَضِّلَ أُمًّا علَی أَبٍ ، وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یُعْطِی الأُمَّ الثُّلُثَ مِنْ جَمِیعِ الْمَالِ۔
(٣١٧١٠) عکرمہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عباس (رض) نے حضرت زید بن ثابت (رض) کے پاس شوہر اور والدین کے وارث ہونے کے مسئلے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے بھیجا، چنانچہ حضرت زید (رض) نے فرمایا کہ شوہر کے لیے آدھا مال ہے ، اور ماں کے لیے بقیہ مال کا ایک تہائی، اور وہ کل مال کا چھٹا حصّہ ہوگا، حضرت ابن عباس نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ کیا آپ اس بات کو کتاب اللہ میں پاتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ ماں کو باپ پر ترجیح دوں ، اور حضرت ابن عباس (رض) ماں کو پورے مال کا ایک تہائی دیا کرتے تھے۔