(۳۱۷۳۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی رَجُلٍ تَرَکَ ابْنَتَیْہِ وَابْنَۃَ ابْنٍ ، وَابْنَ ابْنٍ أَسْفَلَ مِنْہَا : فَلاِبْنَتَیْہِ الثُّلُثَانِ ، وَمَا فَضَلَ لاِبْنِ ابْنِہِ ، یُرَدُّ عَلَی مَنْ فَوْقَہُ وَمَنْ مَعَہُ مِنَ الْبَنَاتِ ، فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ : {لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ} وَلاَ یُرَدُّ عَلَی مَنْ أَسْفَلَ مِنْہُ ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ : لاِبْنَتَیْہِ الثُّلُثَانِ ، وَلاِبْنِ ابْنِہِ مَا بَقِی ، لاَ یَردُّ عَلَی أُخْتِہِ شَیْئًا ، وَلاَ عَلَی مَنْ فَوْقَہُ مِنْ أَجْلِ أَنَّہُ اسْتَکْمَلَ الثُّلُثَیْنِ۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ مِنْ تِسْعَۃٍ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ : فَیَصِیرُ لِلاِبْنَتَیْنِ الثُّلُثَانِ : وَتَبْقَی ثَلاَثَۃُ أَسْہُمٍ : فَلاِبْنِ الاِبْنِ سَہْمَانِ ، وَلأُخْتِہِ سَہْمٌ ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ : مِنْ ثَلاَثَۃٍ أَسْہُمٍ : لِلْبِنْتَیْنِ الثُّلُثَانِ سَہْمَانِ ، وَلاِبْنِ الاِبْنِ مَا بَقِیَ وَہُوَ سَہْمٌ۔
(٣١٧٣١) ابراہیم اس آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی دو بیٹیاں اور ایک پوتی اور ایک پڑپوتا چھوڑا کہ اس کی بیٹیوں کے لیے دو تہائی مال ہے اور باقی پڑپوتے کے لیے ہے، اس طرح کہ اس سے اوپر اور اس کے ساتھ کی بہنوں کی طرف بھی مال لوٹایا جائے گا، حضرت علی (رض) اور زید بن ثابت (رض) کی رائے میں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے حصّوں کے برابر حصّہ دیا جائے گا، اور اس سے نیچے کے کسی شخص کی طرف مال نہیں لوٹایا جائے گا، اور حضرت عبداللہ (رض) کے قول کے مطابق اس آدمی کی دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی مال اور اس کے پوتے کے لیے باقی مال ہے ، باقی مال اس کی بہن پر نہیں لوٹایا جائے گا اور نہ اس پوتے سے اوپر کی کسی عورت پر کچھ لوٹایا جائے گا اس وجہ سے کہ ان بہنوں نے دو تہائی پورا وصول کرلیا ہے۔
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی اور حضرت زید (رض) کی رائے کے مطابق نو کے عد د سے نکلے گا، دو تہائی مال بیٹی کے لیے ہوگا، اور تین حصّے باقی بچے، ان میں سے دو حصّے پوتے کے لیے اور ایک حصّہ بہن کے لیے ہوگا، اور حضرت عبداللہ (رض) کی رائے کے مطابق تین کے عدد سے نکلے گا، دو تہائی بیٹیوں کے لیے اور باقی مال جو ایک تہائی حصّہ ہے پوتے کے لیے ہوگا۔