(۳۱۷۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : أُتِیَ فِی بَنِی عَمٍّ أَحَدُہُمْ أَخٌ لأُمٍّ ، وَکَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَعْطَاہُ الْمَالَ کُلَّہُ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : یَرْحَمُ اللَّہُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنْ کَانَ لَفَقِیہًا ، لَوْ کُنْت أَنَا لأَعْطیْتُہُ السُّدُسَ ، وَکَانَ شَرِیکَہُمْ۔
(٣١٧٣٤) حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس ان چچا زاد بھائیوں کا مسئلہ لایا گیا جن میں سے ایک ماں شریک بھائی تھا، جبکہ حضرت ابن مسعود (رض) نے اس ماں شریک کو پورا مال دیا تھا، حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے، وہ بلاشبہ فقیہ تھے ، اگر میں ہوتا تو اس کو چھٹا حصّہ دیتا ، اور پھر وہ مال میں دوسرے چچا زاد بھائیوں کا شریک ہوتا۔