hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 31740

.

ابن أبي شيبة

31740
Ibn Abi Shaybah
(۳۱۷۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی امْرَأَۃٍ تَرَکَتْ أَعْمَامَہَا أَحَدُہُمْ أَخُوہَا لأُمِّہَا ، فَقَضَی فِیہَا عَلِیٌّ وَزَیْدٌ : أَنَّ لأَخِیہَا لأُمِّہَا السُّدُسَ ، ثُمَّ ہُوَ شَرِیکُہُمْ بَعْدُ فِی الْمَالِ ، وَقَضَی فِیہَا ابْنُ مَسْعُودٍ : أَنَّ الْمَالَ کُلَّہُ لَہُ ، وَہَذَا نَسَب یَکُونُ فِی الشِّرْکِ ، ثُمَّ یُسلمُ أَہْلَہُ بَعْدُ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ: فَہَذِہِ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ مِنْ سِتَّۃِ أَسْہُمٍ ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ: مِنْ سَہْمٍ وَاحِدٍ لأَنَّہُ الْمَالُ کُلُّہُ۔
(٣١٧٤١) فضیل حضرت ابراہیم سے اس عورت کے بارے میں نقل کرتے ہیں جس نے اپنے چچاؤں کو چھوڑا جن میں سے ایک اس کا ماں شریک بھائی تھا، اس کے بارے میں حضرت علی (رض) اور حضرت زید (رض) نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کے ماں شریک بھائی کے لیے چھٹا حصّہ ہے، پھر وہ بعد میں ان چچاؤں کے ساتھ مال میں شریک ہوجائے گا، اور اس مسئلے میں حضرت ابن مسعود (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا کہ تمام مال اسی کا ہے، اور یہ مسئلہ اس نسب کا ہے جو حالت شرک میں ہو پھر اس کے گھر والے بعد میں مسلمان ہوجائیں۔
امام ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی (رض) اور زید (رض) کے قول میں چھ سے نکلے گا اور حضرت عبداللہ کے قول میں ایک حصّے سے نکلے گا کیونکہ وہ سارا مال اسی کا ہے۔