(۳۱۷۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی امْرَأَۃٍ تَرَکَتْ زَوْجَہَا وَأُمَّہَا وَإِخْوَتَہَا لأَبِیہَا وَأُمِّہَا وَإِخْوَتَہَا لأُمِّہَا : فَلِزَوْجِہَا النِّصْفُ ثَلاَثَۃُ أَسْہُمٍ ، وَلأُمِّہَا السُّدُسُ سَہْمٌ ، وَلاِِخْوَتِہَا لأُمِّہَا الثُّلُثُ سَہْمَانِ ، وَلَمْ یَجْعَلْ لاِِخْوَتِہَا لأَبِیہَا وَأُمِّہَا مِنَ الْمِیرَاثِ شَیْئًا فِی قَضَائِ عَلِی ، وَشَرَّک بَیْنَہُمْ عُمَرُ وَعَبْدُ اللہِ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : بَیْنَ الإِخْوَۃِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ مَعَ بَنِی الأُمِّ فِی الثُّلُثِ الَّذِی وَرِثُوا ، غَیْرَ أَنَّہُمْ شَرَّکُوا ذُکُورَہُمْ وَإِنَاثَہُمْ فِیہِ سَوَائٌ۔
(٣١٧٤٦) حضرت ابراہیم نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جس نے موت کے وقت اپنے شوہر، ماں، حقیقی بھائی اور ماں شریک بھائی چھوڑے کہ اس کے شوہر کے تین حصّے یعنی کل مال کا نصف ہوگا اور اس کی ماں کے لیے ایک حصّہ یعنی کل مال کا چھٹا حصّہ ہوگا، اور اس کے ماں شریک بھائیوں کے لیے دو حصّے یعنی ایک تہائی مال ہوگا، اور آپ نے اس عورت کے باپ اور ماں کو میراث کا کوئی حصّہ نہیں دلایا حضرت علی (رض) کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے جبکہ حضرت عمر اور عبداللہ اور زید بن ثابت (رض) نے حقیقی بھائیوں کو ماں شریک بھائیوں کا شریک بنایا اس ایک تہائی مال میں جس کے وہ وارث ہوئے، سوائے اس بات کے کہ ان حضرات نے ان میں سے مردوں اور عورتوں کو برابر حصّہ دلایا۔