(۳۱۷۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، قَالَ : مَاتَتِ ابْنَۃٌ لِلْحَسَنِ بْنِ الْحَسَنِ وَتَرَکَتْ زَوْجَہَا وَأُمَّہَا وَإِخْوَتَہَا لأُمِّہَا وَإِخْوَتَہَا لأَبِیہَا وَأُمِّہَا ، فَارْتَفَعُوا إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ، فَأَعْطَی الزَّوْجَ النِّصْفَ ، وَالأُمَّ السُّدُسَ ، وَأَشْرَکَ بَیْنَ الإِخْوَۃِ مِنَ الأُمِّ وَالإِخْوَۃِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ ، وَقَالَ لِلزَّوْجِ : أَمْسِکْ عَنْ أَتْرَابِکَ ، أَیَلْحَقُ بِہِمْ سَہْمٌ آخَرُ ، حَتَّی یُنْظر حُبْلَی ہِیَ أَمْ لاَ ؟۔
(٣١٧٥١) عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن حسن کی ایک بیٹی فوت ہوگئی اور اس نے شوہر، ماں، ماں شریک بھائی اور حقیقی بھائی چھوڑے، انھوں نے معاملہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) تک پہنچایا تو انھوں نے شوہر کو نصف مال اور ماں کو چھٹا حصّہ دیا، اور ماں شریک بھائیوں اور حقیقی بھائیوں کو برابر کا شریک بنایا، اور شوہر سے فرمایا کہ اپنے ہم عمروں سے رکے رہو کہ آیا ان کو ایک اور حصّہ ملتا ہے ؟ یہاں تک کہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں ؟