(۳۱۷۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّہِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، قَالَ : ہَلَکَ ابْنُ دَحْدَاحَۃَ وَکَانَ ذَا رَأْیٍ فِیہِمْ ، فَدَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَاصِمَ بْنَ عَدِیٍّ ، فَقَالَ : ہَلْ کَانَ لَہُ فِیکُمْ نَسَبٌ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَأَعْطَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِیرَاثَہُ ابْنَ أُخْتِہِ أَبَا لُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ۔ (عبدالرزاق ۱۹۱۲۰)
(٣١٧٧٩) حضرت واسع بن حبّان فرماتے ہیں کہ حضرت ابن دحداحہ (رض) فوت ہوگئے جو کہ صحابہ کرام میں صاحب رائے آدمی تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عاصم بن عدی (رض) کو بلایا اور پوچھا کہ کیا ان کی تمہارے ساتھ کوئی قرابت داری تھی ؟ انھوں نے عرض کیا کہ نہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی میراث ان کے بھانجے ابو لبابہ بن عبد المنذر (رض) کو دے دی۔