(۳۱۸۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن مَسْرُوقٍ ، قَالَ : أُتِیَ عَبْدُ اللہِ فِی أُمٍّ وَإِخْوَۃٍ لأُمٍ ، فَأَعْطَی الأُمَّ السُّدُسَ وَالإِخْوَۃَ الثُّلُثَ ، وَرَدَّ مَا بَقِیَ عَلَی الأُمِّ ، وَقَالَ : الأُمُّ عَصَبَۃُ مَنْ لاَ عَصَبَۃَ لَہُ، وَکَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ لاَ یَرُدُّ عَلَی أُخْتٍ لأَبٍ مَعَ أُخْتٍ لأَبٍ وَأَمٍ، وَلاَ عَلَی ابْنَۃِ ابْنٍ مَعَ ابْنَۃِ صُلْبٍ۔
(٣١٨١٥) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) کے پاس ماں اور ماں شریک بھائیوں کے بارے میں مسئلہ لایا گیا تو آپ نے مال کا چھٹا حصّہ ماں کو دے دیا اور ایک تہائی مال بھائیوں کو دے دیا اور باقی مال ماں کو دے دیا۔ اور فرمایا ماں اس آدمی کی عصبہ ہے جس کا کوئی آدمی عصبہ نہ ہو، اور حضرت ابن مسعود (رض) حقیقی بہن کے ہوتے ہوئے باپ شریک بہن پر مال لوٹانے کے قائل نہیں تھے اور نہ صلبی بیٹی کے ہوتے ہوئے پوتی پر مال لوٹایا کرتے تھے۔