(۳۱۸۲۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ الشَّعْبِیَّ عَنِ الْعَمَّۃِ : أَہِیَ أَحَقُّ بِالْمِیرَاثِ ، أَو ابْنَۃُ الأَخِ ؟ قَالَ : فَقَالَ لِی : وَأَنْتَ لاَ تَعْلَمُ ذَلِکَ ، قَالَ : قُلْتُ : ابْنَۃُ الأَخِ أَحَقُّ مِنَ الْعَمَّۃِ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : وَشَہِدَ عَامِرٌ عَلَی مَسْرُوقٍ أَنَّہُ قَالَ : أَنْزِلُوہُمْ مَنَازِلَ آبَائِہِمْ۔
(٣١٨٢٧) شیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے پھوپھی کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ وراثت کی زیادہ حق دار ہے یا بھتیجی ؟ فرماتے ہیں کہ اس پر وہ فرمانے لگے : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ بھتیجی پھوپھی سے زیادہ حق دار ہے، ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے حضرت مسروق کے بارے میں گواہی دی کہ انھوں نے فرمایا کہ ان کو ان کے آباء کے درجے میں اتارو۔