(۳۱۸۶۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ یُشَرِّکُ الْجَدَّ مَعَ الإِخْوَۃِ ، فَإِذَا کَثُرُوا وَفَّاہ الثُّلُثَ ، فَلَمَّا تُوُفِّیَ عَلْقَمَۃُ أَتَیْتُ عَبِیدَۃَ ، فَحَدَّثَنِی أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ کَانَ یُشَرِّکُ الْجَدَّ مَعَ الإِخْوَۃِ ، فَإِذَا کَثُرُوا وَفَّاہُ السُّدُسَ ، فَرَجَعْت مِنْ عِنْدِہِ وَأَنَا خَاثِرٌ۔
فَمَرَرْت بِعُبَیْدِ بْنِ نُضَیْلَۃَ فَقَالَ : مَا لِی أَرَاک خَاثِراً ؟ قَالَ : قُلْتُ : کَیْفَ لاَ أَکُونُ خَاثِرًا ، فَحَدَّثْتہ ، فَقَالَ : صَدَقَاک کِلاَہُمَا ، قُلْتُ : لِلَّہِ أَبُوک وَکَیْفَ صَدَقَانِی کِلاَہُمَا ، قَالَ : کَانَ رَأْیُ عَبْدِ اللہِ وَقِسْمَتُہُ أَنْ یُشَرِّکَہُ مَعَ الإِخْوَۃِ ، فَإِذَا کَثُرُوا وَفَّاہُ السُّدُسَ ، ثُمَّ وَفَدَ إلَی عُمَرَ فَوَجَدَہُ یُشَرِّکُہُ مَعَ الإِخْوَۃِ ، فَإِذَا کَثُرُوا وَفَّاہُ الثُّلُثَ ، فَتَرَکَ رَأْیَہُ وَتَابَعَ عُمَرَ۔
(٣١٨٦٩) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک بنایا کرتے تھے ، لیکن جب بھائی تعداد میں زیادہ ہوتے تو آپ اس کو ایک تہائی مال دلاتے، ابراہیم راوی فرماتے ہیں کہ جب علقمہ کی وفات ہوئی تو میں حضرت عُبِیدہ کے پاس آیا ، انھوں نے مجھ سے یہ بیان فرمایا کہ حضرت ابن مسعود (رض) دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک بنایا کرتے تھے، اور جب بھائی زیادہ ہوتے تو اس کو مال کا حصّہ دلاتے، فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں ان کے پاس سے اس حال میں لوٹا کہ میری طبیعت بوجھل تھی۔
پھر میں حضرت عبید بن نضیلہ کے پاس سے گزرا تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ آپ کی طبیعت میں سستی کیسی ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہ ہو جبکہ اس طرح واقعہ پیش آیا ہے ، پھر میں نے ان سے پوری بات بیان کی ، انھوں نے فرمایا کہ ان دونوں نے تمہیں سچ بتلایا، میں نے کہا : آپ کی کیا بات ہے ! دونوں نے کیسے سچ کہا ؟ فرمانے لگے : حضرت عبداللہ (رض) کی رائے یہ تھی کہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کردیا جائے، اور جب وہ بڑھ جائیں تو اس کو مال کا چھٹا حصّہ دلا دیا جائے، پھر وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو انھیں دیکھا کہ وہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کرتے ہیں اور جب بھائی زیاد ہ ہوجائیں تو دادا کو ایک تہائی مال دلاتے ہیں، تو آپ نے اپنی رائے چھوڑ دی اور حضرت عمر (رض) کی رائے پر عمل کرنے لگے۔