(۳۱۸۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ وَزَیْدٌ یَجْعَلاَنِ لِلْجَدِّ الثُّلُثَ وَلِلإِخْوَۃِ الثُّلُثَیْنِ ، وَفِی رَجُلٍ تَرَکَ أَرْبَعَۃَ إخْوَۃٍ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ وَأُخْتَیْہِ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ وَجَدِّہِ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ یَجْعَلُہَا أَسْہُمًا أَسْدَاسًا لِلْجَدِّ السُّدُسَ ، لَمْ یَکُنْ عَلِیٌّ یَجْعَلُ لِلْجَدِّ أَقَلَّ مِنَ السُّدُسِ مَعَ الإِخْوَۃِ ، وَمَا بَقِیَ فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ ، وَکَانَ عَبْدُ اللہِ وَزَیْدٌ یُعْطِیَانِ الْجَدَّ الثُّلُثَ وَالإِخْوَۃَ الثُّلُثَیْنِ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ ، وَقَالَ فِی خَمْسَۃِ إخْوَۃٍ وَجَدٍّ ، قَالَ : فَلِلْجَدِّ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ السُّدُسُ ، وَلِلإِخْوَۃِ خَمْسَۃُ أَسْدَاسٍ ، وَکَانَ عَبْدُ اللہِ وَزَیْدٌ یُعْطِیَانِ الْجَدَّ الثُّلُثَ ، وَالإِخْوَۃَ الثُّلُثَیْنِ۔
(٣١٨٧٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) اور حضرت زید (رض) دادا کے لیے ایک تہائی مال مقرر فرمایا کرتے تھے اور بھائیوں کے لیے دو تہائی مال، اور اس مسئلے میں کہ جب آدمی اپنے حقیقی بھائیوں اور دو حقیقی بہنوں اور دادا کو چھوڑ کر مرے، حضرت علی (رض) مال کو چھ حصّوں پر تقسیم کردیا کرتے تھے، اور دادا کو چھٹا حصّہ دلایا کرتے تھے، اور حضرت علی (رض) بھائیوں کی موجودگی میں دادا کا حصّہ چھٹے حصّے سے کم نہیں کیا کرتے تھے، اور باقی مال اس ضابطے پر تقسیم ہوتا کہ مرد کو عورت سے دوگنا حصّہ دیا جاتا، اور حضرت عبداللہ اور حضرت زید (رض) دادا کو ایک تہائی مال دیا کرتے تھے، اور بھائیوں کو دو تہائی مال، اس ضابطے پر کہ مرد کو عورت سے دوگنا حصّہ دیا جائے، اور حضرت ابراہیم نے پانچ بھائیوں اور ایک دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ حضرت علی (رض) کے قول میں دادا کے لیے مال کا چھٹا حصّہ ہے اور بھائیوں کے لیے بقیہ پانچ حصّے ، اور حضرت عبداللہ (رض) اور زید (رض) دادا کو ایک تہائی مال اور بھائیوں کو دو تہائی مال دلایا کرتے تھے۔