(۳۱۸۸۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، قَالَ : إنَّ أَوَّلَ جَدٍّ ورِّثَ فِی الإسْلاَمِ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَأَرَادَ أَنْ یَحْتَازَ الْمَالَ ، فَقُلْتُ لَہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إنَّہُمْ شَجَرَۃٌ دُونَک۔ یَعْنِی : بَنِی بَنِیہِ۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ فِی قَوْلِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللہِ وَزَیْدٍ مِنْ ثَلاَثَۃِ أَسْہُمٍ ، فَلِلْجَدِّ الثُّلُثُ ، وَمَا بَقِیَ فَلِلإِخْوَۃِ ، وَفِی قَوْلِ عَلِیٍّ مِنْ سِتَّۃِ أَسْہُمٍ : لِلْجَدِّ السُّدُسُ سَہْمٌ ، وَلِلإِخْوَۃِ خَمْسَۃُ أَسْہُمٍ۔
(٣١٨٨٠) حضرت عبد الرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا دادا جو وارث بنایا گیا وہ عمر بن خطاب (رض) تھے، انھوں نے ارادہ کیا کہ تمام مال لے لیں ، میں نے کہا اے امیر المؤمنین ! پوتے آپ کے لیے رکاوٹ ہیں۔
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت عمر (رض) ، حضرت عبداللہ (رض) اور حضرت زید (رض) کے قول میں تین حصّوں سے نکلے گا، ایک تہائی مال دادا کے لیے ہوگا اور باقی مال بھائیوں کے لئے، اور حضرت علی (رض) کے قول میں چھ حصّوں سے نکلے گا ، دادا کے لیے چھٹا حصّہ اور بھائیوں کے لیے بقیہ پانچ حصّے۔