(۳۱۸۸۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی رَجُلٍ تَرَکَ جَدَّہُ وَأَخَاہُ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ : فَلِلْجَدِّ النِّصْفُ وَلأَخِیہِ النِّصْفُ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللہِ وَزَیْدٍ ، قَالُوا فِی رَجُلٍ تَرَکَ جَدَّہُ وَإِخْوَیہ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ : فَلِلْجَدِّ الثُّلُثُ وَلِلإِخْوَۃِ الثُّلُثَانِ فِی قَوْلِہِمْ جَمِیعًا۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ مِنْ سَہْمَیْنِ إذَا کَانَتْ أُخْتٌ ، أَوْ أَخٌ وَجَدٌّ ، فَلِلْجَدِّ النِّصْفُ ، وَلِلأُخْتِ - أَو الأَخِ - النِّصْفُ ، وَإِنْ کَانَا أَخَوَیْنِ فَلِلْجَدِّ الثُّلُثُ ، وَلِلأَخَوَیْنِ الثُّلُثَانِ۔
(٣١٨٨٢) فضیل حضرت ابراہیم سے اس مسئلے کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے دادا اور حقیقی بھائی کو چھوڑ جائے، کہ دادا اور بھائی دونوں حضرت علی، عبداللہ اور زید (رض) کے اقوال کے مطابق آدھے آدھے مال کے مستحق ہوں گے، اور اس آدمی کے بارے میں جو دادا اور دو حقیقی بھائی چھوڑ جائے یہ حضرات فرماتے ہیں کہ دادا کے لیے ایک تہائی مال اور بھائیوں کے لیے دو تہائی مال ہوگا۔
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ دو حصّوں سے نکلے گا اس صورت میں جبکہ ورثاء میں بہن یا بھائی اور دادا ہوں، تو دادا کے لیے آدھا مال ہے، اور بہن یا بھائی کے لیے بھی آدھا مال ہے، اور اگر وارث ( ایک کی بجائے) دو بھائی ہوں تو دادا کے لیے ایک تہائی مال اور دونوں بھائیوں کے لیے دو تہائی مال ہے۔