(۳۱۸۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ یُقَاسِمُ بِالْجَدِّ الأُخْوَۃَ إلَی الثُّلُثِ ، وَیُعْطِی کُلَّ صَاحِبِ فَرِیضَۃٍ فَرِیضَتَہُ ، وَلاَ یُوَرِّثُ الأُخْوَۃَ مِنَ الأُمِّ مَعَ الْجَدِّ ، وَلاَ یُقَاسِمُ بِالأُخْوَۃِ لِلأَبِ الأُخْوَۃُ لِلأَبِ وَالأُمِّ مَعَ الْجَدِّ ، وَإِذَا کَانَتْ أُخْتٌ لأَبٍ وَأُمٌّ وَأُخْتٌ لأَبٍ وَجَدٌّ ، أَعْطَی الأُخْتَ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ النِّصْفَ ، وَالْجَدَّ النِّصْفَ۔
وَکَانَ عَلِیٌّ یُقَاسِمُ بِالْجَدِّ الأُخْوَۃَ إلَی السُّدُسِ ، وَیُعْطِی کُلَّ صَاحِبِ فَرِیضَۃٍ فَرِیضَتَہُ ، وَلاَ یُوَرِّثُ الأخْوَۃَ مِنَ الأُمِّ مَعَ الْجَدِّ ، وَلاَ یَزِیدُ الْجَدَّ مَعَ الْوَلَدِ عَلَی السُّدُسِ إلاَّ أَنْ لاَ یَکُونَ غَیْرَہُ ، فَإِذَا کَانَتْ أُخْتٌ لأَبٍ وَأَمٍّ ، وَأَخٌ وَأُخْتٌ لأَبٍ ، وَجَدٌّ ، أَعْطَی الأُخْتَ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ النِّصْفَ ، وَقَاسَمَ بِالأَخِ وَالأُخْتِ الْجَدَّ
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللہِ مِنْ سَہْمَیْنِ ، وَفِی قَوْلِ زَیْدٍ مِنْ ثَلاَثَۃِ أَسْہُمٍ۔
(٣١٨٨٥) ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) دادا کو بھائیوں کے ساتھ مال کی تقسیم میں شریک کیا کرتے تھے ، اور ہر حق دار کو اس کا حق دیا کرتے تھے ، اور دادا کی موجودگی میں ماں شریک بھائی کو وارث نہیں بناتے تھے، اور دادا کے ساتھ حقیقی بھائیوں کی تقسیم میں شرکت کی صورت میں باپ شریک بھائی کو تقسیم کا حصّہ نہیں بناتے تھے ، اور جب حقیقی بہن اور باپ شریک بہن اور دادا جمع ہوجاتے تو حقیقی بہن کو آدھا مال اور دادا کو بھی آدھا مال دلاتے تھے۔
اور حضرت علی (رض) دادا کو بھائیوں کے ساتھ مال کی تقسیم میں چھٹے حصّے تک شریک بناتے تھے ، اور ہر حق دار کو اس کا حق دلاتے، اور دادا کے ہوتے ہوئے ماں شریک بھائی کو وارث نہیں بناتے تھے ، اور اولاد کے ہوتے ہوئے دادا کو مال کے چھٹے حصّے سے زیادہ نہیں دیتے تھے، الّا یہ کہ دادا کے علاوہ کوئی اور وارث موجود نہ ہو، پس جب حقیقی بہن اور باپ شریک بھائی اور بہن اور دادا جمع ہوجائیں تو حقیقی بہن کو آدھا مال دیتے اور بھائی اور بہن کو دادا کے ساتھ تقسیم میں شریک بناتے۔
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی (رض) اور عبداللہ (رض) کے قول میں دو حصّوں سے نکلے گا، اور حضرت زید (رض) کے قول میں تین حصّوں سے نکلے گا۔