(۳۱۸۹۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبِیدَۃَ : فِی ابْنَۃٍ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ ، قَالَ : ہِیَ مِنْ أَرْبَعَۃٍ : سَہْمَانِ لِلْبِنْتِ ، وَسَہْمٌ لِلْجَدِّ ، وَسَہْمٌ لِلأُخْتِ ، قُلْتُ لَہُ : فَإِنْ کَانَتَا أُخْتَیْنِ ؟ قَالَ : جَعَلَہَا عَبِیدَۃُ مِنْ أَرْبَعَۃٍ : لِلْبِنْتِ سَہْمَانِ ، وَسَہْمٌ لِلْجَدِّ ، وَلِلأُخْتَیْنِ سَہْمٌ ، قُلْتُ لَہُ : فَإِنْ کُنَّ ثَلاَث أَخَوَاتٍ ؟ قَالَ : جَعَلَہَا مَسْرُوقٌ مِنْ عَشَرَۃٍ : لِلْبِنْتِ خَمْسَۃُ أَسْہُمٍ ، وَلِلْجَدِّ سَہْمَانِ ، وَلِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ سَہْمٌ سَہْمٌ۔
(٣١٨٩٩) ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت عَبِیدہ نے بیٹی، بہن اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ یہ چار حصّوں سے نکلے گا، دو حصّے بیٹی کے لئے، ایک حصّہ دادا کے لیے اور ایک حصّہ بہن کے لئے، راوی فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے عرض کیا کہ اگر ایک بہن کی بجائے دو بہنیں ہوں ؟ فرمایا کہ اس کو بھی حضرت عَبِیدہ نے چار حصّوں سے نکالا ہے، بیٹی کے لیے دو حصّے ، دادا کے لیے ایک حصّہ اور دونوں بہنوں کے لیے ایک حصّہ، راوی کہتے ہیں میں نے ابراہیم سے عرض کیا کہ اگر بہنیں تین ہوں ؟ تو فرمایا کہ اس مسئلے کو حضرت مسروق نے دس حصّوں سے نکالا ہے، بیٹی کے لیے پانچ حصّے ، دادا کے لیے دو حصّے اور ہر بیٹی کے لیے ایک حصّہ۔