(۳۱۹۰۳) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی رَجُلٍ تَرَکَ ابْنَتَہُ وَأُخْتَہ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ وَجَدًّا ، فَلاِبْنَتِہِ النِّصْفُ ، وَلِجَدِّہِ السُّدُسُ ، وَمَا بَقِیَ فَلأُخْتِہِ فِی قَوْلِ عَلِی ، لَمْ یَکُنْ یَزِیدُ الْجَدَّ مَعَ الْوَلَدِ عَلَی السُّدُسِ شَیْئًا ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ لاِبْنَتِہِ النِّصْفُ ، وَمَا بَقِیَ فَبَیْنَ الأُخْتِ وَالْجَدِّ۔
فَإِنْ کَانَتَا أُخْتَانِ فَمَا بَقِیَ بَیْنَ الْجَدِّ وَالأُخْتَیْنِ فِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ وَزَیْدٍ ، وَفِی قَوْلِ عَلِیٍّ : لِلْجَدِّ السُّدُسُ ، وَللأُخْتَیْہِ مَا بَقِی ، وَإِنْ کُنَّ ثَلاَثَ أَخَوَاتٍ مَعَ الاِبْنَۃِ وَالْجَدِّ ، فَلِلاِبْنَۃِ النِّصْفُ وَلِلْجَدِّ خُمُسَا مَا بَقِی ، وَلِلأَخَوَاتِ ثَلاَثَۃُ أَخْمَاسٍ فِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ وَزَیْدٍ۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ مِنْ سِتَّۃِ أَسْہُمٍ ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ وَزَیْدٍ مِنْ عَشَرَۃِ أَسْہُمٍ : خَمْسَۃٌ لِلْبِنْتِ وَسَہْمَانِ لِلْجَدِّ وَلِلأَخَوَاتِ سَہْمٌ ، سَہْمٌ۔
(٣١٩٠٣) فضیل حضرت ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنی بیٹی، حقیقی بہن اور دادا کو چھوڑ جائے تو حضرت علی (رض) کے قول میں اس کی بیٹی کو آدھا مال، اس کے دادا کو چھٹا حصّہ اور بقیہ اس کی بہن کو دیا جائے گا، اور آپ دادا کو اولاد کے ہوتے ہوئے چھٹے حصّے سے زیادہ نہیں دلاتے تھے، اور حضرت عبداللہ (رض) کے قول کے مطابق اس کی بیٹی کو آدھا مال دیا جائے گا، اور بقیہ مال بہن اور دادا کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا،
اور اگر ( ایک کی بجائے) دو بہنیں ہوں تو حضرت عبداللہ (رض) اور زید (رض) کے فرمان کے مطابق بقیہ مال بہنوں اور دادا کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور حضرت علی (رض) کے قول کے مطابق دادا کے لیے مال کا چھٹا حصّہ اور اس کی دونوں بہنوں کے لیے بقیہ مال ہے۔
اور اگر بہنیں تین ہوں اور بیٹی اور دادا ہوں تو بیٹی کو آدھا مال دیا جائے گا، اور حضرت عبداللہ (رض) اور زید (رض) کے فرمان کے مطابق دادا کے لیے بقیہ مال کے د و پانچویں حصّے ( ٥/٢) ہوں گے اور بہنوں کے لیے بقیہ تین پانچویں حصّے ہوں گے،
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی (رض) کے فرمان کے مطابق دس حصّوں سے نکلے گا ، پانچ حصّے بیٹی کے لئے، دو حصّے دادا کے لیے اور بہنوں کے لیے ایک ایک حصّہ ہوگا۔