hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 31911

.

ابن أبي شيبة

31911
Ibn Abi Shaybah
(۳۱۹۱۲) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ زَیْدٌ یُشَرِّکُ الْجَدَّ إِلَی الثُّلُثِ مَعَ الإِخْوَۃِ وَالأَخَوَاتِ ، فَإِذَا بَلَغَ الثُّلُثَ أَعْطَاہُ الثُّلُثَ ، وَکَانَ لِلأُخْوَۃِ وَالأَخَوَاتِ مَا بَقِی ، وَلاَ للأَخٍ لأُمٍّ ، وَلاَ للأُخْتٍ لأُمٍّ مَعَ جَدٍّ شَیْئٌ ، وَیُقَاسِمُ الأُخْوَۃَ مِنَ الأَبِ الإِخْوَۃَ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ ، وَلاَ یُوَرِّثُہُمْ شَیْئًا ، فَإِذَا کَانَ أَخٌ لأَبٍ وَأَمٍّ وَجَدٍّ ، أَعْطَی الْجَدَّ النِّصْفَ ، وَإِذَا کَانَا أَخَوَیْنِ أَعْطَاہُ الثُّلُثَ ، فَإِنْ زَادُوا أَعْطَاہُ الثُّلُثَ ، وَکَانَ لِلإِخْوَۃِ مَا بَقِی وَإِذَا کَانَتْ أُخْتٌ وَجَدٌّ أَعْطَاہُ مَعَ الأُخْتِ الثُّلُثَیْنِ ، وَلِلأُخْتِ الثُّلُثَ ، وَإِذَا کَانَتَا أُخْتَیْنِ أَعْطَاہُمَا النِّصْفَ ، وَلَہُ النِّصْفَ مَا دَامَتِ الْمُقَاسَمَۃُ خَیْرًا لَہُ ، فَإِنْ لَحِقَتْ فَرَائِضُ امْرَأَۃٍ وَ أُمٍّ وَزَوْجٍ أَعْطَی أَہْلَ الْفَرَائِضِ فَرَائِضَہُمْ ، وَمَا بَقِیَ قَاسَمَ الإِخْوَۃُ وَالأَخَوَاتُ ، فَإِنْ کَانَ ثُلُثُ مَا بَقِیَ خَیْرًا لَہُ مِنَ الْمُقَاسَمَۃِ أَعْطَاہُ ثُلُثَ مَا بَقِی ، وَإِنْ کَانَتِ الْمُقَاسَمَۃُ خَیْرًا لَہُ أَعْطَاہُ الْمُقَاسَمَۃَ ، وَإِنْ کَانَ سُدُسُ جَمِیعِ الْمَالِ خَیْرًا لَہُ مِنَ الْمُقَاسَمَۃِ أَعْطَاہُ السُّدُسَ ، وَإِنْ کَانَتِ الْمُقَاسَمَۃُ خَیْرًا لَہُ مِنْ سُدُسِ جَمِیعِ الْمَالِ أَعْطَاہُ الْمُقَاسَمَۃَ۔
(٣١٩١٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت زید (رض) دادا کو بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ایک تہائی تک مال کا وارث بناتے تھے، پس جب اس کا حصّہ ایک تہائی تک پہنچتا تو اس کو ایک تہائی عطا فرما دیا کرتے تھے، اور باقی مال بھائیوں اور بہنوں کا ہوتا تھا، اور آپ دادا کی موجودگی میں ماں شریک بھائی اور ماں شریک بہن کو کچھ نہیں دلاتے تھے، اور آپ باپ شریک بھائیوں کو حقیقی بھائیوں کے ساتھ تقسیم میں تو شریک فرماتے لیکن باپ شریک بھائیوں کو وراثت میں سے کچھ عطا نہیں فرماتے تھے، پس اگر حقیقی بہن اور دادا وارث ہوتے تو آپ آدھا مال دادا کو عطا فرماتے اور دو بھائی ہوتے تو آپ دادا کو ایک تہائی مال عطا فرماتے، پس اگر بھائی زیادہ ہوتے تو ایک تہائی مال دادا کو عطا فرماتے اور باقی مال بھائیوں کو دلاتے، اور جب ایک بہن اور دادا وارث ہوتے تو آپ دو تہائی مال دادا کو اور ایک تہائی مال بہن کو عطا فرماتے ، اور اگر بہنیں دو ہوتیں تو آدھا مال بہنوں کو اور آدھا مال دادا کو عطا فرماتے جبکہ اس طرح باہم تقسیم سے شرکت دادا کے حق میں بہتر ہوتی، پس اگر اس کے ساتھ دوسرے حصّہ داروں یعنی بیوی، ماں اور شوہر کے حصّے آجاتے تو پہلے ان حصّہ داروں کو ان کے حصّے دلواتے اور بقیہ مال بھائیوں اور بہنوں کے درمیان تقسیم فرما دیتے، اس طرح اگر دادا کے لیے بقیہ مال کا ایک تہائی بہتر ہو تو اس کو بقیہ مال کا ایک تہائی عطا فرماتے، اور اگر تقسیم میں باہمی شرکت اس کے لیے بہتر ہوتی تو ایسا ہی کرتے، اور اگر پورے مال کا چھٹا حصّہ اس کے لیے تقسیم میں شرکت سے بہتر ہوتا تو وہی اس کو عطا فرماتے، اور اگر چھٹے سے زیادہ بہتر دادا کے لیے تقسیم میں شرکت ہوتی تو اس کو تقسیم میں شریک فرمایا کرتے تھے۔