(۳۱۹۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدٍ : أَنَّ عُمَرَ کَتَبَ فِی أَمْرِ الْجَدِّ وَالْکَلاَلَۃِ فِی کَتِفٍ ، ثُمَّ طَفِقَ یَسْتَخِیرُ رَبَّہُ ، فَلَمَّا طُعِنْ دَعَا بِالْکَتِفِ فَمَحَاہَا ، ثُمَّ قَالَ : إنِّی کُنْت کَتَبْت کِتَابًا فِی الْجَدِّ وَالْکَلاَلَۃِ ، وَإِنِّی قَدْ رَأَیْت أَنْ أَرُدَّکُمْ عَلَی مَا کُنْتُمْ عَلَیْہِ ، فَلَمْ یَدْرُوا مَا کَانَ فِی الْکَتِفِ۔
(٣١٩٢٠) سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے دادا اور کلالہ کے بارے میں ایک کندھے کی ہڈی پر کچھ لکھا، پھر اللہ تعالیٰ سے استخارہ فرمانے لگے، جب آپ زخمی ہوئے تو آپ نے وہ ہڈی منگوائی اور اس کو مٹا دیا ، پھر فرمایا : میں نے دادا اور کلالہ کے بارے میں ایک تحریر لکھی تھی، اب میرا خیال ہوا ہے کہ میں تم لوگوں کو تمہاری حالت پر چھوڑ دوں، پس لوگوں کو کچھ پتہ نہ چل سکا کہ آپ نے کندھے کی ہڈی میں کیا لکھا تھا۔