(۳۱۹۲۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ قَبِیصَۃَ ، قَالَ : جَائَتِ الْجَدَّۃُ بِالأُمِّ وَابْنِ الاِبْنِ بَعْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی أَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَتْ : إنَّ ابْنَ ابْنِی وَابْنَ ابْنَتِی مَاتَ ، وَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّ لِی حَقًّا ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : مَا أَجِدُ لَکِ فِی کِتَابِ اللہِ مِنْ حَقٍّ ، وَمَا سَمِعْت فِیکِ شَیْئًا مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَأَسْأَلُ النَّاسَ ، قَالَ : فَشَہِدَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَعْطَاہَا السُّدُسَ ، فَقَالَ : مَنْ یَشْہَدُ مَعَک ؟ قَالَ : مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ ، فَشَہِدَ فَأَعْطَاہَا السُّدُسَ ، وَجَائَتِ الْجَدَّۃُ الَّتِی تُخَالِفُہَا إلَی عُمَرَ ، فَأَعْطَاہَا السُّدُسَ ، فَقَالَ : إذَا اجْتَمَعْتُمَا فَہُوَ بَیْنَکُمَا۔
زَادَ مَعْمَرٌ : وَأَیُّکُمَا انْفَرَدَتْ بِہِ فَہُوَ لَہَا۔ (ترمذی ۲۱۰۰)
(٣١٩٢٢) حضرت قبیصہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ایک دادی حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس ماں اور پوتے کو لے کر آئی اور کہنے لگی کہ میرا پوتا اور نواسا فوت ہوگئے ہیں، اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرا بھی ان کے مال میں حق ہے، حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں تیرے لیے کتاب اللہ میں کوئی حق نہیں پاتا، اور میں نے تمہارے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی کوئی بات نہیں سنی، راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے یہ گواہی دی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دادی کو مال کا چھٹا حصّہ عنایت فرمایا ہے، آپ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ اس پر کون گواہی دے گا ؟ انھوں نے فرمایا کہ محمد بن مسلمہ، چنانچہ محمد بن مسلمہ (رض) نے گواہی دی ، اور پھر ایک دوسری دادی حضرت عمر (رض) کے پاس آئی جو پہلی دادی کے علاوہ تھی، آپ نے اس کو مال کا چھٹا حصّہ دیا اور فرمایا جب تم جمع ہو جاؤ تو یہ مال تمہارے درمیان تقسیم ہوگا، معمر راوی یہ اضافہ کرتے ہیں کہ : اور تم میں سے جو اکیلی ہو تو یہ چھٹا حصّہ اس کا ہی ہے۔