(۳۱۹۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ بَسَّامٍ، عَنْ فُضَیْلٍ، قَالَ: قَالَ إبْرَاہِیمُ: تَرِثُ الْجَدَّاتُ السُّدُسَ، فَإِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً أَو اثْنَتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَبَیْنَہُنَّ سَہْمٌ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ ، وَإذَا اجْتَمَعْن ثَلاَثُ جَدَّاتٍ ہُنَّ إلَی الْمَیِّتِ شرعٌ سَوَائٌ قَالَ: بَیْنَہُنَّ سَہْمٌ تَکُونُ جَدَّۃُ الأُمِّ ، وَجَدَّۃٌ بَنِی الأَبِ : أُمَّ أَبِیہِ ، وَأَمَّ أُمِّہِ ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ : إذَا اجْتَمَعْن ثَلاَثُ جَدَّاتٍ کَانَ بَیْنَہُنَّ السُّدُسُ ، وَإِنْ کَانَ بَعْضُہُنَّ أَقْرَبَ نَسَبًا لَمْ یَکُنْ بَعْضُہُنَّ أُمَّہَاتِ بَعْضٍ۔
(٣١٩٣٧) فضیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ دادیاں مال کے چھٹے حصّے کی وارث ہوں گی، پس اگر ایک یا دو یا تین ہوں تو ان کے درمیان حضرت علی (رض) اور زید (رض) کے فرمان کے مطابق ایک ہی حصّہ تقسیم ہوگا، اور جب تین دادیاں جمع ہوجائیں جن میں سے ہر ایک میت کے ساتھ رشتے میں برابر ہو تو ایک ہی حصّہ ان کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، وہ دادیاں ماں کی نانی اور باپ کی ماں اور باپ کی نانی ہیں، اور حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں جب تین دادیاں جمع ہوجائیں تو ان کے درمیان مال کا چھٹا حصّہ تقسیم ہوگا اگرچہ ان میں سے کوئی دادی نسب میں میت کے زیادہ قریب نہ ہو اس طرح کہ ان میں سے کوئی دوسرے کی ماں نہ ہو۔