(۳۱۹۶۹) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عُمَر بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ اللہِ ، قَالَ فِی وَلَدِ الْمُلاعَنَۃ : مِیرَاثُہُ کُلُّہُ لأُمِّہِ ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ أُمٌّ فَہُوَ لِعَصَبَتِہِ۔
وَقَالَ إبْرَاہِیمُ : مِیرَاثُہُ کُلُّہُ لأُمِّہِ ، وَیَعْقِلُ عَنْہُ عَصَبَتُہَا ، وَکَذَلِکَ وَلَدُ الزِّنَا وَوَلَدُ النَّصْرَانِیِّ وَأُمُّہُ مُسْلِمَۃٌ۔
(٣١٩٦٩) ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) نے لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اس کی تمام میراث اس کی ماں کے لیے ہے، پس اگر اس کی ماں نہ ہو تو اس لڑکے کے عصبہ کے لئے، اور حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ اس کی تمام میراث اس کی ماں کے لیے ہے اور اس کی جانب سے دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے، اور یہی حکم ہے ولد الزنا اور نصرانی کی اولاد کا جبکہ اس کی ماں مسلمان ہو۔