(۳۱۹۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ عَمَّنْ سَمِعَ الشَّعْبِیَّ ، عَنْ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللہِ ، أَنَّہُمَا قَالاَ فِی ابْنِ مُلأَعَنْۃٍ مَاتَ وَتَرَکَ أُمَّہُ وَأَخَاہُ لأُمِّہِ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ یَقُولُ : لِلأُمِّ الثُّلُثُ ، وَلِلأَخِ السُّدُسُ ، وَیَرُدُّ مَا بَقِیَ عَلَیْہِمَا الثُّلُثَانِ وَالثُّلُثُ ، وَکَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ یَقُولُ : لِلأُمِّ الثُّلُثُ ، وَلِلأَخِ السُّدُسُ ، وَیَرُدُّ مَا بَقِیَ عَلَی الأُمِّ
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ مِنْ قَوْلِہِمْ جَمِیعًا تَصِیرُ مِنْ سِتَّۃٍ۔
(٣١٩٨٧) شعبی روایت کرتے ہیں کہ لعان کرنے والی عورت کا جو بیٹا مرتے ہوئے اپنی ماں اور ماں شریک بھائی کو چھوڑ جائے اس کے بارے میں حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اس کی ماں کو ایک تہائی مال دیا جائے گا۔ اور اس کے بھائی کو مال کا چھٹا حصّہ دیا جائے گا، اور بقیہ مال بھی ” ردّ “ کے طریقہ پر ان کی طرف لوٹا دیا جائے گا، اس طرح ان کا حصّہ دو تہائی اور ایک تہائی ہوجائے گا، اور حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے تھے کہ ماں کو ایک تہائی مال اور بھائی کو مال کا چھٹا حصّہ دیا جائے گا اور باقی مال ماں پر لوٹا دیا جائے گا،
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ تمام حضرات کے قول کے مطابق چھ حصّوں سے نکالا جائے گا۔