(۳۱۹۸۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی قَطَنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الضَّبِّیُّ : أَنَّ امْرَأَۃً رَکِبَتِ الْفُرَاتِ وَمَعَہَا ابْنٌ لَہَا فَغَرِقَا جَمِیعًا ، فَلَمْ یُدْرَ أَیُّہُمَا مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِہِ فَأَتَیْنَا شُرَیْحًا فَأَخْبَرْنَاہُ بِذَلِکَ ، فَقَالَ : وَرِثُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِنْ صَاحِبِہِ ، وَلاَ تَرُدُّوا عَلَی وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِمَّا وَرِثَ مِنْ صَاحِبِہِ شَیْئًا۔
(٣١٩٨٩) قطن بن عبداللہ ضبی فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے فرات کا سفر کیا جبکہ اس کے ساتھ اس کا ایک بیٹا بھی تھا، چنانچہ وہ دونوں غرق ہوگئے، اور یہ پتہ نہیں چلا کہ ان دونوں میں سے کون دوسرے سے پہلے مرا، ہم حضرت شریح کے پاس آئے اور ان کو اس کی خبر دی، آپ نے فرمایا : ان دونوں کو ایک دوسرے کا وارث بنادو اور ان میں سے کسی پر دوسری کی طرف سے وہ مال نہ لوٹاؤ جس کا وہ وارث ہوا ہے۔