(۳۱۹۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ : أَنَّ طَاعُونًا وَقَعَ بِالشَّامِ ، فَکَانَ أَہْلُ الْبَیْتِ یَمُوتُونَ جَمِیعًا ، فَکَتَبَ عُمَرُ أَنْ یُوَرَّثُ الأَعْلَی مِنَ الأَسْفَلِ ، وَإِذَا لَمْ یَکُونُوا کَذَلِکَ وَرَّثَ ہَذَا مِنْ ذَا ، وَہَذَا مِنْ ذَا۔
قَالَ سَعِیدٌ : الأَعْلَی مِنَ الأَسْفَلِ : کَانَ الْمَیِّتُ مِنْہُمْ یَمُوتُ وَقَدْ وَضَعَ یَدُہُ عَلَی آخَرَ إلَی جَنْبِہِ۔
(٣١٩٩٦) قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں کہ شام میں طاعون واقع ہوگیا چنانچہ ایک ایک گھر والے سب کے سب مر جایا کرتے تھے حضرت عمر (رض) نے یہ لکھا کہ اوپر والے کو نیچے والے کا وارث بنایا جائے، اور اگر ایسی صورت نہ ہو تو وہ ایک دوسرے کے وارث بنا دیئے جائیں، سعید فرماتے ہیں کہ اوپر والے کو نیچے والے کا وارث بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے مرنے والا اس طرح مرتا تھا کہ وہ اپنا ہاتھ دوسرے کے پہلو پر رکھے ہوتا۔