(۳۲۰۴۸) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : قضَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَرِثُ قَاتِلٌ مَنْ قَتَلِ قَرِیبِہِ شَیْئًا مِنَ الدِّیَۃِ عَمْدًا أَوْ خَطَأً۔
وَقَالَ الزُّہْرِیُّ الْقَاتِلُ لاَ یَرِثُ مِنْ دِیَۃ مَنْ قُتِلَ شَیْئًا وَإِنْ کَانَ وَلَدًا ، أَوْ وَالِدًا ، وَلَکِنْ یَرِثُ مِنْ مَالِہِ ، لأَنَّ اللَّہَ قَدْ عَلِمَ أَنَّ النَّاسَ یَقْتُلُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، وَلاَ یَنْبَغِی لأَحَدٍ أَنْ یَقْطَعَ الْمَوَارِیثَ الَّتِی فَرَضَہَا۔
(٣٢٠٤٨) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جو آدمی کسی کو قتل کر دے وہ خواہ جان بوجھ کر قتل کرے یا غلطی سے ، مقتول کی دیت کا وارث نہیں ہوگا، اور زہری فرماتے ہیں قاتل مقتول کی کسی چیز کا وارث نہیں ہوگا، چاہے وہ بیٹا ہو یا باپ ہو۔ لیکن وہ مقتول کے اپنے مال کا وارث ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں گے، اور کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ ان وراثتوں کو ختم کر دے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کردی ہیں۔