(۳۲۰۷۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ غُلاَمًا لَہُ سَائِبَۃً ، فَمَاتَ وَتَرَکَ مَالا ، فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ ؟ فَقَالَ : إنَّ أَہْلَ الإسْلاَمِ لاَ یُسَیِّبُونَ ، إنَّمَا کَانَتْ یُسَیِّبُ أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ ، أَنْتَ مَوْلاَہُ وَوَلِیُّ نِعْمَتِہِ وَأَوْلَی النَّاسِ بِمِیرَاثِہِ ، وَإلاَّ فَأرِنِہِ ہَا ہُنَا وَرَثَۃٌ کَثِیرٌ۔ یَعْنِی : بَیْت الْمَالِ۔
(٣٢٠٧٨) عطاء روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو اس طرح آزاد کردیا کہ کسی کو اس پر ولایت نہ ہوگی، چنانچہ وہ مرگیا اور اس نے مال چھوڑا حضرت ابن مسعود (رض) سے اس کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا بیشک اہل اسلام آزاد نہیں چھوڑتے، بیشک اہل جاہلیت ہی آزاد چھوڑتے تھے، آپ اس کے مولیٰ ، اور دوسرے لوگوں سے اس کے زیادہ حق دار ہیں، ورنہ اس کا مال میرے پاس لے آؤ، یہاں بہت سے ورثاء ہیں، یعنی بیت المال۔