(۳۲۰۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ : أَنَّ طَارِقَ بْنِ الْمرقَّع أَعْتَقَ غُلاَمًا لَہُ لِلَّہِ ، فَمَاتَ وَتَرَکَ مَالا ، فَعُرِضَ عَلَی مَوْلاَہُ طَارِقٍ ، فَقَالَ : شَیْئٌ جَعَلْتہ لِلَّہِ ، فَلَسْت بِعَائِدٍ فِیہِ ، فَکُتِبَ فِی ذَلِکَ إلَی عُمَرَ ، فَکَتَبَ عُمَرُ : أَنِ اعْرِضُوا الْمَالَ عَلَی طَارِقٍ ، فَإِنْ قَبِلَہُ وَإِلاَّ فَاشْتَرَوْا بِہِ رَقِیقًا فَأَعْتِقُوہُمْ ، قَالَ : فَبَلَغَ خَمْسَۃَ عَشَرَ رَأْسًا۔
(٣٢٠٨٦) عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ ، طارق بن مرقع نے اپنا غلام اللہ کے لیے آزاد کیا چنانچہ وہ مرگیا اور اس نے اپنا مال چھوڑا ، اس کو اس کے آقا طارق پر پیش کیا گیا تو وہ کہنے لگے یہ ایسی چیز ہے جو میں نے اللہ کے لیے چھوڑ دی ہے اس لیے میں اس کو دوبارہ لینے والا نہیں، چنانچہ اس بارے میں حضرت عمر (رض) کو لکھا گیا۔ آپ نے فرمایا، کہ مال طارق کو دے دو ، اگر وہ لے لے تو ٹھیک ورنہ اس سے غلام خرید کر آزاد کردو، راوی فرماتے ہیں، کہ وہ مال پندرہ غلاموں کی قیمت تک جا پہنچا۔