(۳۲۰۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، قَالَ : أَرْسَلَ إلَیَّ الْعُرْسُ بْنُ قَیْسٍ الْکِندِیُّ فَسَأَلَنِی عَنْ أَخَوَیْنِ نَصْرَانِیَّیْنِ أَسْلَمَ أَحَدُہُمَا وَمَاتَ الآخَرُ وَتَرَکَ مَالا ؟ فَقُلْتُ : کَانَ مُعَاوِیَۃُ یَقُولُ: لَوْ کَانَ نَصْرَانِیًّا وَرِثَہُ ، فَلَمْ یَزِدْہُ الإسْلاَمُ إلاَّ شِدَّۃً ، قَالَ الْعرسُ بْنُ قَیْسٍ : أبَی ذَلِکَ عَلَیْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِی عَمَّۃِ الأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ مَاتَتْ وَہِیَ یَہُودِیَّۃٌ فَلَمْ یُوَرِّثْہُ عُمَرُ مِنْہَا شَیْئًا۔
(٣٢٠٩٢) میمون بن مہران کہتے ہیں کہ عُرس بن قیس کندی نے مجھ سے بذریعہ خط دو نصرانی بھائیوں کے بارے میں پوچھا جن میں سے ایک مسلمان ہوجائے اور دوسرا مرجائے اور مال چھوڑ جائے، میں نے کہا کہ حضرت معاویہ (رض) فرماتے تھے کہ اگر وہ بھائی نصرانی ہوتا تو وارث ہوتا اور اسلام نے اس میں شدت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا، عُرس بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اشعث بن قیس کی یہودیہ پھوپھی کے بارے میں ہم پر اس بات کا انکار فرما دیا اور ان کو اس کا وارث نہیں بنایا۔